انھیں دشمنان نبوت کے حق میں زبان نبی پر دعا اللہ اللہ

،رحمت عالم کے دشمنوں پر احسانات اپنے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اچھے اخلاق کی انتہا ہے ،اس کے بعد انسانی اخلاق اور انسانی دل کی حدود ختم ہوجاتی ہےں ۔قرآن مجید کی یہ گواہیاں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے آپ کے اخلاق کی عظمت کے اعتراف کے لیے کافی ہیں۔نبی اکرم ﷺ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ جو حسن سلوک کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں بے شمار واقعات درج ہیں ۔ان میں سے بعض بہت مشہور ہیں جن کا ذکر علماءاپنی تقریروں میں کرتے رہتے ہیں ۔پہلے تو آپ یہ اصولی بات سمجھ لیجیے کہ نبی اکرم ﷺ نے کبھی کسی کی بدخواہی نہیں کی ۔آپ کی زبان مبارک کبھی گالیوں سے آلودہ نہیں ہوئی ،آپ نے کبھی ذاتی نقصان کا انتقام نہیں لیا ۔آپ کی عمر مبارک 63سال ہوئی ،اگر بچپن کے تین سال نکال بھی دیجیے جس میں بچہ بولنا اور باتوں کو سمجھنا سیکھتا ہے تو ساٹھ سال کا طویل عرصہ کم نہیں ہوتا ۔اس پورے عرصے میں آپ سے کوئی ایسا عمل سرزد نہیں ہوا جسے غیر اخلاقی کہا جاسکتا ہو۔حالانکہ اس دوران دشمنوں نے عداوت ،مخالفت اورنقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ ایک دفعہ آپ سے کہا گیا کہ مشر کین پر بد دعا فر ما ئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اب دیا: ''کہ میں لعنت کے لئے مبعو ث نہیں ہوا ہو ں بلکہ مجھے با عث رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، کتا ب البر)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ گواہی دیتی ہیں”کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی چیز کو،عورت کو نہ خادم کو،ہاتھ سے نہیں مارا،ہاں اگر آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔(جس میں یقیناً دشمن کو مارتے)اور ایسا بھی کبھی نہیں ہواکہ آپ کو کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچی ہو اور آپ نے تکلیف پہنچانے والے سے بدلہ لیا ہو۔ہاں اگر اللہ کے محارم میں سے کسی چیز کی ہتک کی جاتی تو آپ یقیناً اللہ کے لئے انتقام لیتے۔(یعنی مرتکب حرام کو سزا دیتے)“ٰ(مسلم)

آپ کی مخالفت اور عداوت کا دور ،اعلان نبوت کے بعد شروع ہوتا ہے ۔اس سے پہلے تک آپ اہل مکہ کے چشم و چراغ تھے ،سب آپ کی تحسین فرماتے ۔سب کے نزدیک آپ ذہین ،شریف اور دانشمند تھے ،لیکن جیسے ہی آپ نے نبوت کا اعلان فریا اسی وقت سے آپ سے محبت کرنے والے گنتی کے چند افراد رہ گئے ۔اس عداوت میں سب سے زیادہ پیش پیش خود آپ کا چچا ابولہب اور چچی ام جمیل تھی ۔جس نے بدزبانی بھی کی ،بددعائیں بھی دیں ،راستے میں کانٹے بھی بچھائے ،سجدے کی حالت میں گردن پر گندی اوجھڑی بھی ڈالی ،اس کی عداوت کی وجہ سے اللہ نے سورہ ”لہب “میں اس پر لعنت فرمائی ۔نبی اکرم ﷺ نے کبھی ان دونوں سے کوئی انتقام نہیں لیا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیش کش کی کہ آپ کہیں تو آپ کو ستانے والوں کو نیست و نابودکردوں لیکن آپ کی رافت کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اس وقت بھی یہی کہا کہ ”مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں سے اسلام کے محافظ پیدا ہوں گے۔ “

سیرت کی کتابوں میں ہجرت کی رات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔جس میں آپ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا:” اے علیؓ تم میری چادر اوڑھ کر بستر پر لیٹ جاﺅ،صبح امانتیں واپس کرکے تم بھی مدینہ چلے آنا“۔یہ امانتیں کن کی ہیں ۔آپ کے ان دشمنوں کی جو ننگی تلوار لیے دروازے پر آپ کا کام تمام کرنے کے لیے اس انتظار میں کھڑے ہیں کہ کب باہر نکلیں کہ ہم قصہ پاک کردیں۔کیا کوئی ان سے بھی بڑا دشمن ہوسکتا ہے ؟یہ سب آپ کے خون کے پیاسے ہیں ،دارلندوہ میں مشورے کے بعد ہر قبیلہ کا نمائندہ ،بہترین تلوار باز یہاںجس کی جان لینے آیا ہے وہ ان کی امانتیں واپس کرنے کی فکر میں ہے ۔وہ اپنی جان کی تو پرواہ کرہی نہیں رہا لیکن اپنے چچازاد بھائی علی ؓ کی جان بھی داﺅں پر لگارہا ہے ۔جان کے دشمنوں اور گھر پر حملہ آوروں کی امانتیں دنیا کے کس قانون میں واپس کی جاتی ہیں ؟یہ محمد عربی ﷺکا اخلاق ہے کہ وہ اپنے جانی دشمنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ،وہ مورخ کو کردار کشی کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتے ۔

امن کا نوبل انعام پانے والواور اہنسا کا پجاری کہے جانے والو،مجھے بتاﺅ تمہاری تاریخ میں کوئی ایک کردار بھی ایسا ہے ؟یہی نہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف کردیا بلکہ ان کی طر سے اپنے دل میں بھی کوئی برا خیال نہیں رکھا ،کبھی کسی محفل میںان کا تذکرہ بھی برے الفاظ میں نہیں کیا ۔بلکہ اپنے دشمنوں کو بشارتیں دیں ۔اس ضمن میں سراقہ بن مالکؓ کا واقعہ تاریخ کے اوراق پر سنہرے الفاظ میں درج ہے ۔

” سراقہ کہتے ہیں کہ (ہجرت کے موقع پر حضور اکرم ﷺ کا تعاقب کرتے ہوئے)جب میں گھوڑا دوڑاتا ہو ا ان کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا پتھریلی زمین میں گھٹنوںتک دھنس گیا،میں اٹھا اور اپنا تیر نکال کر قسمت کا حال معلوم کرنے لگا کہ میں ان لوگوں کو پکڑنے میں کامیاب رہوں گا یا نہیں، جواب میری مرضی کے خلاف آیا، مگر میں نے اس کی پروا نہیں کی، میں دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھنے لگا، یہاں تک کہ میں ان لوگوں کے اتنے قریب ہوگیا کہ رسول اللہ کی تلاوت کی آواز میرے کانوں میں آرہی تھی اور ابوبکرؓ چوکنا ہو کر چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت میرے گھوڑے کے دونوں پاﺅں زمین میں ٹخنوں تک دھنس گئے، میں نیچے گر پڑا، میں نے اٹھ کر گھوڑے کو ڈانٹا، اس نے بہ مشکل تمام اپنے دونوں پاﺅں زمین سے باہر نکالے، میںنے پھر تیروں کے ذریعے قسمت آزمائی کی، اس وقت بھی نتیجہ میری مراد کے برخلاف نکلا۔ تب میںنے کہا مجھے یقین ہے کہ تم دونوں کی بددعا سے ایسا ہوا ہے، مجھے امان دیجئے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو شخص تم لوگوں کو تلاش کرتا ہوا ملے گا میں اس کو واپس کروںگا۔ اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین غالب ہو کر رہے گا، میں نے ان لوگوں کو قریش مکہ کے ارادوں سے باخبر کیا اور یہ بھی بتلایا کہ انہوں نے آپ کو قتل کرنے یا گرفتار کرنے پر سو اونٹ انعام میں دینے کا اعلان کیا ہے، جو زادِ راہ میرے پاس تھا وہ میں نے ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور درخواست کی کہ وہ اسے لے لیں، مگر انہوںنے میری کوئی چیز قبول نہیں کی، البتہ اتنا کہا کہ وہ ان لوگوں کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتلائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ مجھے معافی نامہ اور پروانہ¿ امن لکھ کر دے دیں، اس موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ بن مالک سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اے سراقہ! اس وقت تمہیں کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے،سراقہ نے پوچھا کسریٰ بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس کے بعد آپ نے سراقہ کی درخواست کے مطابق پروانہ¿ امن اور معافی نامہ لکھوا کر دے دیا، اس واقعے کے بعد سراقہ بن مالک مکہ کی طرف واپس چلے گئے، راستے میں جو شخص بھی آپ کو ڈھونڈتا ہوا ملتا وہ اسے یہ کہہ کر واپس کردیتے کہ ادھر جانے کی ضرورت نہیں ہے میںدیکھ آیا ہوں۔“حضور اکرم ﷺ کی یہ پیشین گوئی حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں پوری ہوئی۔

پھر وہ فتح مکہ کا دن ،اللہ اللہ اس دن آپ کس قدر رحیم ہوگئے تھے ۔آپ کے سارے دشمن آپ کے سامنے کھڑے تھے ،وہ جنھوں نے آپ کا مکہ میں رہنا دوبھر کردیا تھا اور آپ کو ہجرت کرنا پڑی تھی ،وہ بھی جنھوں نے آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تھا ،آل یاسر ؓ کو ،بلال حبشی کو ستایاتھا ،وہ بھی جنھوں نے آپ کو قتل کرنے کے لیے گھر کو گھیر لیا تھا ،وہ بھی جومدینہ کو مٹادینا چاہتے تھے ،وہ بھی جنھوں نے آپ کے جاں نثاروں کی جان لی تھی ،جنھوں نے آپ کے گھر میں کوڑا کچرا اور گندگیاں پھینکی تھیں،جنھوں نے آپ کی شان میں نازیبا کلمات کہے تھے ۔ان میں وہ ہندہ بھی تھی جس نے پیارے چچا کا کلیجہ چبایا تھا ،ان میں وہ ابو سفیانؓ بھی تھے جس نے دشمنوں کے لشکر کی قیادت کی تھی ۔ایک سے ایک بڑا دشمن آپ کے سامنے تھا۔سب آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑے تھے ۔اگر ان میں سے ایک ایک کا سر قلم کردیا جاتا تب بھی مورخ یہی لکھتا کہ محمد ﷺ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ انصاف کیا،لیکن قربان جائیے سرپا رحمت و رافت پر کہ زبان نبوی پکار اٹھتی ہے ۔” اذھبوا انتم الطلقائ“ جاﺅ،جاﺅ تم سب آزاد ہو۔اسی پر اکتفا نہیںبلکہ فرمایا ۔ جو اپنا گھر بند کرلے ،جو ہتھیار پھینک دے ،جو ابو سفیان ؓکے گھر میں چلا جائے ان سب کو معافی اور امان ہے ۔وہی ابو سفیان ؓ جو کل ہی لشکر اسلام کی قوت دیکھ کر اسلام لائے ہیں ۔ان کے گھر کو نبی اکرم ﷺ دارالامان قراردےتے ہیں ۔دنیا کے بادشاہ جب دشمنوں کو فتح کرتے ہیں تو ان کی گردنیں اڑا دیتے ہیں ،ان کی خواتین کو قید کرلیتے ہیں ،ان کا مال و اسباب لوٹ لیتے ہیں ،کھیتوں کو برباد کرتے ہیں اور گھروں کو جلا دیتے ہیں ،یہ دوعالم کا بادشاہ ،جس کی بادشاہت تاقیامت رہنے والی ہے ،جس کی شہنشاہیت ہرزمانے اور ہر خطہ ¿ ارضی پر محیط ہے ،وہ جب فاتحانہ داخل ہورہا ہے تو اس کی گردن بادشاہوں کے بادشاہ رب ذوالجلال کے سامنے جھکی ہوئی ہے اور زبان پر اسی کے حمد و شکر کے ترانے جاری ہیں۔

کوڑا ڈالنے والی عورت کی عیادت ،عداوت میں مکہ چھوڑ کر جانے والی عورت کی گٹھری اٹھا کر اس کی منزل تک پہنچانے والی بڑھیا کے ساتھ آپ کا حسن سلوک زبان زد عام ہے ،ہوسکتا ہے محدثین کے نزدیک ان واقعات کی صحت میں تردد ہو،لیکن آپ کے اخلاق کریمانہ سے یہ واقعات صد فی صد میل کھاتے ہیں۔ ،قرض خواہ یہودی کی بدزبانی اورعبداللہ بن ابی کی شرارتوں ،بنو قینقاع،بنو نضیر او ر بنو قریظہ کی بد عہدیوںکے جواب میں آپ کا بے مثال حسن سلوک تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔آپ نے بلاشبہ اپنے لاتعدادجانی دشمنوںکو معاف کیا۔ بقول علامہ ابوالمجاہد زاہد

جو برسائیں پتھر جو کانٹے بچھائیں جو دن رات دکھ دیں جو ہردم ستائیں

انھیں دشمنان نبوت کے حق میں زبان نبی پر دعا اللہ اللہ