کوئی تو ہے سچ بولنے والا

دہلی کے علمی ادبی حلقوں میں ہر زمرے کے ادیب ، دانشور ، شعرا ے کرام اورصحافی حضرات کے اجتماع میں یہ ناچیز بھی سب سے پچھلی صف میں کہیں شامل ہے۔ زبان و ادب کے یہ ارباب حل و عقد اردو اداروں ، درسگاہوں اور اکیڈمیوں وغیرہ کی بد عنوانیوں ، اقربا پرستیوں اور گروپ بازیوں سے عصری ادب میں پیدا ہونے والی ہر طرح کی خرابیوں پر از راہ مصلحت، ذاتی مفاد، راست تعلق ، خوشامد پسندی یا شخصی وابستگی کی بنا پر سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہنا ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے گروہ اور خیمے ہیں۔ ہر گروہ دانشورانہ ایمانداری اورادبی اخلاقیات کے اصولی تقاضوں سے بے نیاز بلکہ لاعلم،خود کے فروغ و تشہیر کے لیے شبانہ روز مکمل طور سے سرگرم ہے۔ اپنی اور اپنوں کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان اہل دانش کے اس اچھے خاصے جم غفیر میں صرف اور صرف ایک آواز ہے جوعصری ادب کے اس خود غرض سناٹے کو اکثر و بیشتر مرتعش کرتی رہتی ہے۔ یہ گرجدار اور پر اثر آواز ہے جناب عبد الرحمن (اے۔رحمان)ایڈوکیٹ کی ۔پیشے سے سپریم کورٹ کے وکیل لیکن علم و ادب کے عشق میںجنون کی حدتک سرشار۔ میر و غالب والی دلّی کی شاید واحد اور آخری ہفت زبان شخصیت جس نے نہ صرف اردو بلکہ عالمی ادب،سیاست،تاریخ و ثقافت کا اسقدر گہرا مطالعہ کیا ہے کہ فی الوقت اردو دنیا میں دور دور تک ان کا ثانی نظر نہیں آتا۔ تدریسی پیشے سے وابستہ اچھے خاصے ماہرین علم و ادب بھی ان کی علمیت کے قائل ہیں۔ اگر ان کے مزاج میں ٹھہراو¿ اور مصلحت آمیزی ہوتی اور ادب کے کسی بھی شعبے میں سنجیدگی سے کام کرتے تو شاید بہتوں کے چراغ گل ہو جاتے۔اپنے اخباری کالموں اور تنقیدی مضامین سے وہ ثابت بھی کر چکے ہیں کہ ایسی فصیح و بلیغ نثر لکھنے والے کم سے کم دہلی میں تو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔

عبد الرحمن یا اے رحمن کے بارے میں وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اردو دنیا میں ایسی کوئی اور شخصیت موجود نہیں ہے جو پورے استدلال اور استقلال کے ساتھ خود کو بحر العلوم تصور کرنے والے عظماءکی خامیوں پر علی الاعلان گرفت کر سکے، مباحث کے لیے مبارزت کر سکے اور علمیت کی زرکار قباو¿ں کو نوچ کر نام نہاد دانشوری کو بے لباس کر سکے۔ وہ جو کچھ غلط ہوتا دیکھتے ہیں اس پر شعلہ¿ مستعجل کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں اوراکثر شائستگی اور مصنوعی مہذبانہ حدود سے تجاوز بھی کر جاتے ہیں۔ہم جیسے بزدل مصلحت پسند دل ہی دل میں ان کے اس انداز کو نا پسندتو کرتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے ۔ اکثر اصحاب گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہونے کا مجبوراً ڈھونگ بھی کرتے ہیںلیکن زیادہ تر ان کی تیز نگاہی کا شکار ہو کر خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھ لیتے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی ہو، اردو کونسل ہو یا ارد واکادمی، یا یونیورسٹیاں اور ان سے وابستہ افراد، اگر ان کی کوئی غلط کاری سامنے آ گئی تو پھر اس کی خیر نہیں۔ اللہ دے اور بندہ لے۔گذشتہ برسوں میں انھوں نے ادبی دنیا کے سب سے بڑے ©”شو مین “ور بقول عام نظریہ ساز پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عالمی سطح پر جس طرح بے نقاب کیا اس پر بےشک عصری مصلحت آرائی خاموش رہی ہو لیکن مستقبل کی تحقیق کے لیے ناقابل تردید حقیقت ضرور قائم ہو گئی کہ نارنگ صاحب نے کس طرح مانگے کے اجالوں سے اپنا ایوان عظمت روشن کیا۔ اردو اولیا کے قطب مینار نارنگ صاحب کی ذہانت، گروہ سازی اور حصول شہرت کی غیر معمولی حکمت عملی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔نارنگ صاحب نے ایک پوری انگریزی کتاب کا سرقہ کر کے اردو میں اپنے نام سے چھپوا کر اس پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ تک لے لیا۔ہندوستان ، پاکستان اور تمام اردو بستیوں میں موجود اہل نظر اس سے کما حقہ آگاہ تھے لیکن ساری بڑی بڑی آوازیں صم بکم رہیں۔یہی وجہ تھی کہ دہلی سے اٹھنے والی ’رحمانی‘ آواز سے دانشوری ششدر ہو کر رہ گئی،بڑے بڑوں کے پتے پانی ہو گئے۔یہی نہیں نارنگ صاحب کے ذریعے بے شمارنا اہل ادیبوں اور غیر ادیبوں کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دلاے¿ جانے کی انہوں نے مع ثبوت وشواہدجس طرح قلعی کھولی وہ تو اردوادب کی تاریخ میںرقم ہو چکاہے۔ اس پر ان کے ایک قریبی دوست نے حال ہی میں اپنائیت کے طور پر ان سے پوچھا۔” آپ کو یہ سب کرکے کیا ملا“، آپ یہ سب کیوں کرتے ہیں؟ جواب ملا، مجھے آپ کی طرح یا اوروں کی طرح کچھ لینے یا پانے کی توقع میں غلط بات پر خامو ش رہنے کی ضرورت بھی کیا ہے، میں جو غلط دیکھوں گا احتجاج ضرور کروں گا‘’ دوست نے کہا۔ احتجاج سے کیا ہوتا ہے، جواب دیا۔ ”کوئی جاہل ہی یہ بات کہہ سکتا ہے۔ تاریخ عالم میں جتنے بھی انقلاب آئے ان کی بنیاد صدائے احتجاج ہی تھی۔احتجاج کے بغیر انقلاب ممکن ہی نہیں۔ اردو ادب میرا عشق ہے، اس کے معاملات میں جو بھی مجھے غلط لگے گا اس کے خلاف احتجاج کرتا رہوں گا۔ میں آپ کی طرح توصیف باہمی، انعامات و اعزازات ، تقریبات میں عزت افزائی وغیرہ وغیرہ سے بے نیاز ہوں۔ اپنی مرضی سے جو اچھا لگتا ہے کرتا ہوں، اپنے وسائل کے علاوہ کسی کے تعاون کی ضرورت نہیں سمجھتا۔“

رحمان صاحب کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔میں عینی شاہد ہوں۔2012 میں منٹو صدی تقریبات کے لے¿ خود مرکزی وزیر براے¿ وسائل انسانی نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے توسط سے ایک خطیر رقم کی پیشکش کی جو ان کے لاکھ اصرار کے باوجود رحمان صاحب نے قبول نہیں کی حالانکہ وزیر موصوف کے تحریری احکامات پر پوری رقم کاونسل میں آگی¿ تھی۔ کونسل کے ریکارڈ میں یہ بات موجود ہے۔

کبھی کبھی مجھے بھی ان کی تیز بیانی سے شکایت ہو جاتی ہے ۔حال ہی میں انھوں نے غالب ایوارڈ کے معاملے میں ایک غیر مستحق پروفیسر کو ایوارڈ سے سرفراز کیے جانے پر اپنے مخصوص لہجے میں صدائے احتجاج بلند کی۔ لطف یہ کہ پروفیسر موصوف ان کے دوستوں میں سے ہیں، مگر وہ کہتے ہیں۔” غلط بات میرے سگے بھائی سے بھی منسوب ہو گی تو رد عمل کا لہجہ یہی رہے گا‘ ‘ ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ غالب ایوارڈ کے ضمن میں پورا دانشور طبقہ دل ہی دل میں ان کی رائے سے متفق ہے ۔ مصلحتاً خاموش رہنا اور بات ہے۔ میں تو اکثر دل میں سوچتا اور خوش ہوتا ہوںکہ کوئی تو ہے جو اس خرابے میں سچ بولتا ہے۔