انسانیت نوازی اور قناعت پسندی

قناعت پسندی یعنی جوکچھ اللہ کی طرف سے ملا ھے اسے کافی سمجھنا اور اس پر گذر بسر کرلینا یہ اسلام کی آفاقی تعلیم ھے،اور‌ہماری زندگی کے ساتھ دوسروں کی زندگی کو بھی خوشگوار‌بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ہر بندہ مومن کو اللہ پر قانع رہنا چاہئے اور جوکچھ اس نے روزی  مقدر کر دیا ہے اس سے راضی برضا رہنا چاہئے ،اور اگر اللہ کی طرف سے مال ودولت اور دنیاوی عیش وعشرت کا سامان نصیب ہوا ہے تو دنیا کی رنگینیوں میں بھت زیادہ گرفتار نہ ہوکر قناعت پسندی وسادگی کا مظاہرہ پیش کرنا چاہئے خاص طور پر  ایسے حالات میں  جب انسانیت پریشان حال ھو،عموم بلوی ھو، لوگوں کو مدد کی سخت ضرورت ھو،جان‌ومال کا نقصان ہو ،لوگ دانے دانے کو ترس رہے ہوں ،لقمہ عیش کے محتاج ہوں ، جیسے گذشتہ کئی ہفتوں سے ملک کے بعض علاقے بالخصوص ضلع بلرامپور ،سدھارتھ نگر وغیرہ  میں  سیلاب اور  اوراسکے پس منظر میں ھونے والی تباہیوں کی خبریں آرہی ہیں ، خوراک اور رسد کی کمی  ہے ،دواؤں کی قلت ہے  ،پھیلنے والی بیماریاں اور اسکے سنگین اثرات ہیں اوپر سے جانی ومالی نقصان  ،فصلوں کی تباہی،کسانوں کی بدحالی اورپریشان حالی  جیسے مشکل  حالات سے وہاں کے لوگ دوچار ہیں  ھیں،ایسے وقت میں خود نرم گرم گذارا کرلینا،قناعت وصبرکی زندگی اختیار کر  لینا اور پریشان حالوں، اورضروتمندوں کی مدد کے لئے تیاررھنا‌اور اپنے بھائیوں کی بھلائی  واشک سوئی کے لىے آگے آنا اور خود پر دوسروں کو ترجیح دینا  یھی اسلام کی سچی تعلیم ھے اورعین انسانیت نوازی ھے،اور ہمارے ایمان کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ پیارے نبی علیہ السلام نے تو مسلمان کو ایک دوسرے مسلمان بلکہ پوری انسانیت کا ھمدرد وخیر خواہ بتایا ھےاورایسے بندے کےلئے اللہ کی نصرت ومدد کی بشارت دی ھے جو دوسروں کی مدد میں لگارھتا ھے۔ اس لئے مسلمانوں کو چاھئے کہ وہ اپنی زندگی میں قناعت پسندی اختیار کریں اورایسے کٹھن حالات میں دوسروں کی مدد اورپرسان حالی اور انسانیت نوازی کے لئے ھمیشہ کھڑے رھیں حدیث نبوی ہے  ۔

 عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الإِسْلَامِ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ» [سنن الترمذي/ 2349/ بسندحسن صحيح) 

ترجمہ : فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :' مبارکبادی ہو اس شخص کو جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اسے بقدر کفاف روزی ملی پھروہ اسی پر قانع ومطمئن رہا.اور فرمایا :

عن‌ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال ﷺ: ((مَن نَفَّسَ عن مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِن كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عنْه كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَومِ القِيَامَةِ، وَمَن يَسَّرَ علَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عليه في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَن سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللَّهُ في عَوْنِ العَبْدِ ما كانَ العَبْدُ في عَوْنِ أَخِيهِ)) ترجمہ :کہ جس شخص نے دوسرے کی تکلیف کو دورکیا تو اللہ تعالی اسکی قیامت کے دن کی تکلیفوں کو دور فرما ٔئے گا اورجو کسی تنگ دست پر آسانی فرمائے گا تو اللہ اس پر آسانی فرمائے گاا ور جو کسی مسلمان‌کے عیب کی پردہ پوشی کریگا تو اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اسکی پردہ پوشی کریگا ،اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اللہ اسکی مدد میں رہتاہے ۔۔الخ  ( صحيح مسلم /2699)

اس لئےہمیں ہمیشہ انسانی اور رفاہی کاموں پر توجہ دینی چاہئے اور پریشان حالوں کی مدد اور خبر گیری کرنی چاہئے اور آفات ارضی وسماوی کے موقع پر خود موٹا جھوٹا کھا کر اور معمولی لقمہ عیش  پر گذارا کرکے اپنا دل دوسروں کے لئے کشادہ رکھنا چاہئے تاکہ ہماری قناعت پسندی کے پس منظر میں انسانیت اور بھائی چارگی کو فروغ مل سکے اور ہم خود بھی اجر عظیم اور اللہ کی مدد کے مستحق بن سکیں ۔

اللہ ہم سب کو ایسے مواقع پر انسانیت کے کاموں کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور جو لوگ اس مشکل سے دوچار ہیں انکے لىے آسانی پیدا کرے اور غیب سے انکی مدد فرمائے ۔آمین‌