آہ استاذ محترم فضیلۃ الشیخ محمد الیاس اثری ؔ صاحب

آہ استاذ محترم فضیلۃ الشیخ محمد الیاس اثری ؔ صاحب

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ؟

آبائی وطن : بڈھی خاص ،بسکوہر بازار ، سدھارتھ نگر ، یوپی 

تاریخ پیدائش: ایک اندازے کے مطابق عمر تقریباً  80/85  برس تھی(وارثین کو بھی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہے ۔) 

  آج تقریباً ۲۷/ برس کے بعد قلم اور قرطاس کا رشتہ قائم کررہا ہوں اس لئے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو ناتھ بھنجن میں طالب علمی کے زمانہ میں مجلہ تہذیب (۱۹۹۰  تا  ۱۹۹۴ ) کے لئے چند ایک مضمون لکھنے کا شرف حاصل ہوا تھا لیکن جب اچانک استاذ محترم کی موت کی خبر ہماری سماعت پر بجلی بن کرگری توکئی دنوں اس خبر سے متاثر رہا پھرایک دن سوچا کہ کچھ باتیں جو ذہن و دماغ میں ہیں حوالہ ٔ قرطاس کردوں۔

استاذ محترم نے جب اس دارفانی میں آنکھیں کھولیں تو ہمارے گاؤں کا ماحول کچھ عجیب سا تھا ، آپ کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا ، ابتدائی تعلیم آپ نے گاؤں ہی کے مدرسہ سے حاصل کی ،مکتب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے دارالتوحید میناں عیدگاہ کا رخ کیا ،وہاں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپ جامعہ سراج العلوم بونڈیہار تشریف لے گئے ، وہاں کے اساتذۂ کرام سے فیض یاب ہونے کے بعد تکمیل تعلیم اور علمی تشنگی کی خاطر دار الحدیث اثریہ مئو ناتھ بھنجن کے لئے رخت سفر باندھا ۔یہی آخری درسگاہ تھی جہاں سے آپ علم قرآن و سنت دل میں سجائے ہوئے گھر تشریف لائے ۔ 

اپنی زندگی میں شیخ مرحوم نے بڑی محنتیں کیں ، کھیتی باڑی کاکام بھی خوب کیا ، فراغت کے بعد آپ نے کچھ مکاتب میں درس و تدریس کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیا ، سب سے آخر میں آپ نے اپنے گاؤں کے مدرسہ المعہد الاسلامی بڈھی خاص میں ایک ماہر استاذ کی حیثیت سے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی ، طلبہ و طالبات کی علمی صلاحیت کو مزید نکھارنے کے لئے بچوں کو دو گروپ میںتقسیم کرکے مقابلہ و مسابقہ کی محفل منعقد کیا کرتے نیز ان کے اندر تقاریر اور نظم خوانی میں مہارت کے لئے اپنی جیب سے کچھ روپئے خرچ کرکے انعام وغیرہ رکھ کر مقابلہ کرایا کرتے تھے تاکہ بچے اور بچیاں جہاں رہیں ہر میدان میں دوسروں سے آگے رہیں ۔ 

دوران تدریس استاذ مکرم نے گھر پرایک چھوٹی سی دوکان بھی سجا رکھی تھی جس میں ضروریات کے اکثر سامان آسانی سے اوروں کے مقابلے کم قیمت میں دستیاب ہوجایا کرتے تھے ۔ بشری لغزشوں کو چھوڑ دیا جا ئے تو آ پ کی ذات ایسی تھی کہ آپ کے اندر گاؤں کے دیگر اساتذہ کے بالمقابل کچھ ایسی خوبیاں تھیں جنہیں ہر کوئی آج بھی یادکر رہا ہے ، ان میں سے چند خوبیوں کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

۱۔جب بھی آپ کے سامنے کوئی بیٹھتا تو اسے اپنے مزاحیہ انداز میں ہنسنے پر مجبور کردیتے اور غمزدہ چہروں پر خوشیاں بکھیر دیتے تھے۔

۲۔ آپ جب بھی کسی سے سلام کرتے یا کسی کے سلام کا جواب دیتے تو آپ کے چہرے پر ایک حسین و لطیف مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی جو دوسروں کا غم غلط کرنے کا سبب بنتی ، یہ صفت یقینا آپ کو دوسروں سے ممتاز بناتی تھی ،آج عالم تصور میں جب سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ بیٹھے مسکرا رہے ہیں ۔

۳۔اپنی زندگی میں آپ نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کا کام لوگوں کے گھرو ں تک جا کر اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی پیاری باتیں پیش کرنی ہوتی تھی ،خاص طور سے نماز پنجوقتہ کی پابندی کی نصیحت کرتی ، نیز پندرہ دن یا ایک ماہ کے اندر کسی محلہ میں ایک دینی واصلاحی پروگرام رکھتی ، جس میں لوگوں کے اندر موجود خامیوں کی نشاندہی کی جاتی اور لوگوں کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی جاتی ، اللہ کا شکر ہے کہ آپ کا یہ ادنی شاگرد اکثر موقع پر ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔ 

۴۔ آپ اپنی زندگی میں صوم وصلوۃ کے پابند رہے خاص طور سے نماز کی ادائیگی مسجد میں کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس وقت تک قائم رہا جب تک آپ کو مسجد جانے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی ، مگر جب آپ چلنے پھرنے سے قاصر اور معذور ہوگئے تو دوسروں کے سہارے جمعہ کے دن نماز جمعہ کی خاطر جامع مسجد ضرور آتے لیکن کچھ دنوں کے بعد آپ کا یہ رشتہ بوجہ مجبوری و معذوری مسجد سے ختم ہوگیا ۔ 

۵۔ آپ کی خطابت لائق تحسین تھی بایں طور کہ ہمارے گاؤں کے سارے علماء دونوں اذانوں ( پہلے دو اذانیں ہوتی تھیں) کو سن لینے کے بعد ہی مسجد

        جانے کے لئے اپنے قدموں کو تکلیف دینے کی زحمت کیا کرتے تھے لیکن الحمدللہ آپ اس سلسلہ میں دوسروں سے ہمیشہ پیش پیش رہے ، جب بھی آپ مسجد 

پہونچے اگر کوئی نہیں آیا تو فی البدیہہ خطابت فرمایا کرتے تھے ۔

۶۔ آپ جلسہ جلوس کے بہت ہی شوقین تھے کئی کئی کلومیٹر تک بذریعہ سائیکل آپ تشریف لے جاتے ، آپ کے ساتھ گاؤں کے کئی لوگ بھی ہوتے تھے گویا کہ آپ ایک چھوٹے سے قافلے کے امیر اور روح رواں ہوتے تھے ۔ آپ کی معیت میں چلنا لوگ اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔ راقم کو بھی آپ کے ساتھ کئی بار جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر جب دینی جلسہ یا مشاعرہ آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوتا تو اکثر آپ کو سوتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے ۔ 

۷۔ آپ ایک اچھے میزبان کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا کرتے تھے، جب بھی کوئی آپ کے یہاں تشریف لاتا تو سب سے پہلے آپ ٹھنڈا پانی  بسکٹ کے ساتھ پیش فرماتے اور اگر کھانے کا وقت ہوجاتا تو مہمان کو کھانا تناول فرمائے بغیر جانے کی اجازت نہ دیتے ۔ آپ کے دستر خوان پر اکثر گوشت اور مچھلی ہوا کرتی تھی ، آپ کو مچھلی بہت زیادہ مرغوب تھی ۔ 

آپ سے متعلق باتیں بہت ہیں کہاں تک تحریر کروں مجھے اپنی کم علمی کا احساس بہت ہے اس لئے انھیں چند باتوں پر اپنی بات ختم کررہا ہوں ۔

آخری ملاقات : میں اور استاذ محترم مولانا عبدالحفیظ ندوی صاحب حفظہ اللہ مدیر مجلہ الفرقان ڈومریا گنج آپ سے ملاقات کے لئے عیدالاضحی کے تیسرے دن آپ کی بڑی بیٹی کے گھر جو کہ گاؤں ہی میں ہے تشریف لے گئے تو آپ اپنے چھوٹے بیٹے اور نواسے کے سہارے گھر سے باہرآئے ، ہم نے آپ کی خیریت معلوم کی ۔ آپ اپنے اندازمیں اشارے سے بتارہے تھے کیونکہ آواز سمجھ میں نہیں آرہی تھی پھر آپ نے چائے کے لئے کہا ، چائے آئی اور ہم دونوں چائے پی کر واپس آگئے ۔ اس کے بعد دوسروں سے حالات معلوم کرتا رہا لیکن دن بدن آپ کی صحت بگڑتی گئی اور بقرعید کے تقریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد ۱۵ /اگست ۲۰۲۳ءبروز منگل رات تقریباً دس بجے دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے استاذ محترم ہم لوگوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دار فانی سے دارالبقاء کی جانب  روانہ ہوگئے۔ اللہ ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ان خوبیوں کو جو کتاب وسنت کے مطابق آپ کی ذات گرامی میں موجود تھیں انہیں حرز جاں بنانے کی توفیق بخشے۔ آمین 

آخری بات : آپ کی شریک حیات اچھی سیرت کی مالکہ ہیں ، ماں کے ساتھ تما م بچوں نے مل کر اپنے والد محترم کی بڑی خدمت کی ہیں خصوصاًچھوٹے بیٹے محمد احمد جو والدین کے ساتھ رہتے تھے انھیں خدمت کا زیادہ موقع ملا ۔ 

آپ کے پسماندگان:  چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔ 

(۱)  مولانا مشتاق احمد فلاحیؔ جو اس وقت مرکز امام بخاری تلولی ،ممبئی ،مہاراشٹرا میں تعلیم و تعلم کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔  (۲)  مختار احمد جو ممبئی میں رہتے ہیں ۔  (۳) ممتا زاحمد ( یہ آپ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے تھے  (۴)  محمد احمد جو اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتے ہیں ۔    

بیٹیاں :  (۱)  ساجدہ خاتون  (۲) حامدہ خاتون  (۳)  ماجدہ خاتون   (۴) راشدہ خاتون   (۵)   شاہدہ خاتون 

اللہ رب العالمین سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی زندگی کوخوشیوں سے بھر دے ۔ آمین ثم آمین 

آپ کا ادنی شاگرد 

  ایم عالم عالیاوی